شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھ...

Egypt's Dar Al-Ifta

شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھنے کا حکم

Question

کیا شعبان کے مہینے میں زیادہ روزے رکھنا مستحب ہے؟ اور کیا اس کثرت کی کوئی حد بھی ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ ماہِ شعبان ان مہینوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی عنایت سے نوازا اور بلند مرتبہ و اعلیٰ مقام عطا فرمایا۔ نبی کریم ﷺ اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔اس لئےمکلف کے لیے اس مہینے میں نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں کثرت سے روزے رکھنا مستحب ہے، اس کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں، لہٰذا جو شخص پورا شعبان روزے رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے، اور شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔

تفصیلات…

شعبان کے مہینے کی فضیلت اور اس کے مقام کا بیان

اللہ عزّوجلّ نے زمان و مکان کو پیدا فرمایا، اور تمام ادوار و زمانوں میں بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی۔ اس قبیل سے بعض مہینوں کو فضیلت دینا ہے، جیسے ماہِ رمضان، اور بعض دنوں کو، جیسے ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن اور شوال کے چھ روزے، اور بعض راتوں کو، جیسے لیلۃ القدر اور شعبان کی پندرھویں رات۔

اور شریعتِ اسلامی نے ان مہینوں اور دنوں کی خصوصی قدر و قیمت پر توجہ دلائی ہے، اور مختلف قسم کی عبادات کے ذریعے ان کے احیاء کی ترغیب دی ہے، کیونکہ ان میں فضل، احسان، مزید تجلی اور خاص اکرام پایا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم وارد ہوا ہے: ﴿وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ﴾ ترجمہ: ﴿اور انہیں اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ﴾ (ابراہیم: 5)۔

اسی طرح ان کے روحانی فیوض و برکات کو حاصل کرنے اور انہیں غنیمت جاننے کا حکم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اپنی زندگی کے دنوں میں اللہ کی عنایات اور رحمت کی ہواؤں کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرو، بے شک اللہ کی خاص رحمتیں ہوتی ہیں، ممکن ہے کہ اللہ تمہیں ان میں سے کسی ایک سے نواز دے، پھر اس کے بعد تم کبھی بدبخت نہ ہو‘‘۔ اسے امام دولابی نے اپنی کتاب الکنٰی والأسماء میں روایت کیا ہے۔

فضیلت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ جسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خاص توجہ سے نوازا، بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام عطا فرمایا، ماہِ شعبان ہے؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم فضائل کے ساتھ مخصوص کیا اور ایک بلند درجے سے ممتاز فرمایا۔ نبی کریم ﷺ اس کے دنوں میں خصوصیت کے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے، کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال ربّ العالمین کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! میں نے آپ کو کسی اور مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ رجب اور رمضان کے درمیان غفلت برتتے ہیں، اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں اعمال ربّ العالمین کے حضور اٹھائے جاتے ہیں، تو میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں‘‘۔ اسے امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھنے کا حکم

حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور بعض حنابلہ فقہاء کی اکثریت کا موقف یہ ہے کہ ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا مستحب ہے، البتہ شافعیہ نے اس کو اس شرط کے ساتھ مقید کیا ہے کہ جس شخص کی کوئی سابقہ عادت نہ ہو اور نہ ہی کوئی سبب ہو، وہ نصفِ شعبان کے بعد نئے سرے سے روزے شروع نہ کرے۔ رہا وہ شخص جس کی پہلے سے روزوں کی عادت ہو، یا اس نے نصفِ شعبان سے پہلے روزے رکھے ہوں پھر انہیں جاری رکھا ہو، یا نصف کے بعد کسی معتبر سبب کی بنا پر روزے رکھے ہوں، جیسے قضا یا نذر کے روزے، تو یہ تمام صورتیں ممانعت میں داخل نہیں ہوتیں۔

اور ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کو اس لیے مستحب قرار دیا گیا ہے کہ اس بارے میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث وارد ہوئی ہے، اور اسی طرح امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کبھی اتنے مسلسل روزے رکھتے کہ ہم کہتے اب روزے چھوڑیں گے ہی نہیں، اور کبھی اتنے دن نہیں رکھتے تھے کہ ہم کہتے اب روزہ ہی نہیں رکھیں گے۔ لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور نہ ہی میں نے آپ کو کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے دیکھا۔ اس حدیث کو امام بخاری (اور یہی ان کے الفاظ ہیں) اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اور امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، بلکہ آپ ﷺ شعبان کے پورے مہینے کے روزے رکھا کرتے تھے۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

اور «شعبان کے پورے مہینے کے روزے رکھنے» کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کا اکثر حصہ روزے میں گزارتے تھے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے، جیسا کہ امام دميری نے النجم الوهاج میں بیان کیا ہے، اور اس کی تائید امام مسلم کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے: آپ ﷺ شعبان کے روزے رکھتے تھے مگر تھوڑے دن چھوڑ دیتے تھے۔

فقہِ حنفی کی کتاب الفتاویٰ الہندیۃ میں آیا ہے: روزوں کی ترغیب دی جانے والی اقسام کئی ہیں؛ ان میں پہلی قسم ماہِ محرم کے روزے ہیں، دوسری ماہِ رجب کے روزے، اور تیسری ماہِ شعبان کے روزے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ہے۔

اور امام حطّاب مالکی مواهب الجليل میں فرماتے ہیں: وہ مہینے جن میں روزے رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے تین ہیں: محرم، رجب اور شعبان۔

اور امام نووی شافعی المجموع میں لکھتے ہیں: ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ مستحب روزوں میں حرمت والے مہینوں کے روزے شامل ہیں، اور مسنون روزوں میں شعبان کے روزے ہیں۔

اور شیخ الاسلام زکریا انصاری شافعی أسنى المطالب میں فرماتے ہیں: جب شعبان نصف کو پہنچ جائے تو بلا سبب روزہ رکھنا حرام ہو جاتا ہے، اگر اس سے پہلے کے روزوں کے ساتھ ملا کر نہ رکھا جائے، اور یہی صحیح قول ہے جیسا کہ المجموع اور دیگر کتب میں مذکور ہے۔

علامہ ابن مُفلِح حنبلی نے اپنی کتاب الفروع میں فرمایا ہے: اکثر فقہاء نے رجب اور شعبان کے روزوں کی استحباب کا صراحتاً ذکر نہیں کیا، البتہ الإرشاد میں اس کے مستحب ہونے کا قول آیا ہے۔ اور ہمارے شیخ نے فرمایا: امام احمد کے مذہب اور دیگر ائمہ کے ہاں اس مسئلے میں اختلاف ہے؛ بعض نے اسے مستحب کہا ہے اور بعض نے مکروہ کہا ہے، اسی بنا پر جو شخص رجب یا شعبان کے روزوں کی نذر مانے وہ رجب کے کچھ دن روزے نہ رکھے۔ اور امام آجُرّی نے شعبان کے روزوں کو مستحب قرار دیا ہے، جبکہ ان کے سوا کسی اور نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ اسی طرح ابن الجوزی نے اپنی کتاب أسباب الهداية میں کہا ہے کہ حرمت والے مہینوں کے روزے اور پورے شعبان کے روزے رکھنا مستحب ہے، اور یہی بات المحرر کے مصنف کے کلام سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

پورا ماہِ شعبان روزہ رکھنے کا حکم

ماہِ شعبان میں روزوں کی کثرت کی کوئی حد مقرر نہیں، لہٰذا جو شخص پورا شعبان روزہ رکھنا چاہے اسے اس سے منع نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس مہینے میں زیادہ روزے رکھنے کی ترغیب پر دلالت کرنے والے عام دلائل موجود ہیں، بشرطیکہ آدمی اس کی قدرت رکھتا ہو۔

امام الحرمین جوینی نے نهاية المطلب میں فرمایا ہے: اگر کوئی شخص پورا شعبان روزے رکھنے کا ارادہ کرے، اور اس نیت سے یومِ شک کا بھی روزہ رکھ لے کہ شعبان مکمل ہو جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

اور یہ بات ان احادیث کے منافی نہیں جن میں آیا ہے کہ "نبی کریم ﷺ نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے"، اور یہ کہ "آپ ﷺ شعبان کے روزے رکھتے تھے مگر تھوڑے دن چھوڑ دیتے تھے"؛ کیونکہ ان روایات اور امام بخاری کی روایت ’’آپ ﷺ پورا شعبان روزہ رکھتے تھے‘‘ کے درمیان تطبیق یہ بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کبھی پورا شعبان روزہ رکھتے تھے اور کبھی اس کا اکثر حصہ، تاکہ یہ گمان نہ کیا جائے کہ پورا شعبان بھی رمضان کی طرح واجب ہے، اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں بیان کیا ہے۔

اور پورا شعبان روزہ رکھنے کا حکم اس روایت سے بھی متصادم نہیں جس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «جب شعبان نصف کو پہنچ جائے تو روزہ نہ رکھو»، جیسا کہ امام ابوداؤد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جن فقہاء کے نزدیک نصف شعبان کے بعد روزہ ممنوع ہے، وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم ان لوگوں پر لاگو ہوتا ہے جو نصف شعبان سے پہلے کے روزوں سے اسے ملا نہ سکیں بلکہ نصف شعبان کے بعد نئے سرے سے روزے شروع کریں ۔ اور  محلِ جواز بلکہ استحباب تب ہو گا جب کوئی شخص نصف شعبان سے پہلے روزے رکھتا رہا اور بعد میں بھی روزے جاری رکھے، یا نصف کے بعد کسی معتبر سبب (جیسے قضا، نذر یا معمول کے مطابق روزہ) کی بنا پر روزے رکھے، چاہے اسے پہلے کے روزوں سے ملائے یا نہ ملائے، جیسا کہ امام ابن حجر ہیتمی نے اپنی کتاب الفتاویٰ الفقهیۃ الکبریٰ میں بیان کیا ہے۔

خلاصہ

اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماہِ شعبان ان مہینوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی عنایت سے نوازا اور بلند مرتبہ و اعلیٰ مقام عطا فرمایا۔ نبی کریم ﷺ اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔اس لئےمکلف کے لیے اس مہینے میں نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں کثرت سے روزے رکھنا مستحب ہے، اس کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں، لہٰذا جو شخص پورا شعبان روزے رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے، اور شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas