عامل (مضارب) کے لیے کل منافع کی شرط لگانے کا حکم
Question
عامل (مضارب) کے لیے تمام منافع کی شرط لگانے کا کیا حکم ہے؟ ایک شخص نے دوسرے کو مضاربت کے طور پر کاروبار کرنے کے لیے کچھ رقم دی، اور چونکہ ان کے درمیان قریبی تعلقات تھے اور دوسرا شخص (مضارب) مالی مشکلات سے گزر رہا تھا، اس لیے پہلے شخص (مالکِ سرمایہ) نے شرط رکھی کہ تمام منافع مضارب کو ملے گا۔ دونوں نے اس شرط پر اتفاق کر لیا اور رضامندی ظاہر کی۔ کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟
Answer
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وعلى آلہ وصحبہ ومن والاہ وبعد؛
مضاربت کے عقد کا حکم
شرعی طور پر یہ اصول مقرر ہے کہ "کسی چیز پر حکم لگانا اس کے مکمل تصور پر موقوف ہوتا ہے" جیسا کہ امام تاج الدین السبکی نے "الأشباه والنظائر" (2/385، دار الكتب العلمية) میں ذکر کیا ہے۔ یعنی حکم لگانے سے پہلے معاملے کو مکمل طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
سوال میں مذکور معاملہ ایک خاص قسم کا عقد (معاہدہ) ہے، جسے فقہِ حنفی اور فقہِ حنبلی میں "مضاربت" کہا جاتا ہے، جبکہ فقہِ مالکی اور فقہِ شافعی میں اسے "قِراض" کہتے ہیں۔ یہ شرکت (پارٹنرشپ) کی ایک قسم ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: "الحاوي الكبير" از امام ابو الحسن الماوردی، 7/305، دار الكتب العلمية)۔
اور مضاربت کا لفظ "ضَرَبَ" فعل سے مشتق ہے، جو "مُفاعَلَة" کے وزن پر ہے، اور اس کا مطلب زمین میں چلنا اور تجارت کے لیے سفر کرنا ہے، جیسا کہ علامہ جمال الدین ابن منظور نے لسان العرب (1/545، 7/217، دار صادر) میں ذکر کیا ہے۔
مضاربت کی تفصیل
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک شخص اپنا مال کسی دوسرے کو تجارت کے لیے دیتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ سرمایہ ایک شخص (یعنی مضاربت میں سرمایہ فراہم کرنے والے) کا ہوگا اور اس مال میں محنت دوسرا شخص (مضارب) کرے گا، اور عامل (مضارب) کے لیے نفع میں ایک متعین حصہ مقرر ہوگا، اور یہ بالاجماع ثابت ہے، جیسا کہ امام ابو الولید ابن رشد نے بدایة المجتهد (4/21، دار الحدیث) میں نقل کیا ہے۔
مضاربت کا عقد اصولی طور پر جائز اور مشروع ہے، اور مسلمانوں کے درمیان زمانۂ رسالت سے لے کر آج تک اس پر تعامل رہا ہے، بلا کسی انکار کے۔ کئی ائمہ کرام نے اس کی مشروعیت پر اجماع نقل کیا ہے۔ جن میں امام ابن منذر نے الإقناع (1/270، مکتبة الرشد) میں، امام ابن حزم نے مراتب الإجماع (ص: 91، دار الكتب العلمية) میں، امام ابن عبد البر نے الاستذكار (7/3، دار الكتب العلمية) میں، اور امام ابو الولید ابن رشد نے بدایة المجتهد (4/21) میں اس کا ذکر کیا ہے۔
تمام منافع مضارب (کام کرنے والے) کے لیے ہونے کی شرط لگانے کا حکم
چونکہ مضاربہ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ایک فریق سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا فریق اس سرمائے سے کاروبار کرے، اور نفع دونوں کے درمیان ایک متعین نسبت سے تقسیم ہو، اس لیے تمام نفع کو صرف مضارب (کاروبار کرنے والے) کے لیے مشروط کرنا فقہاء کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے، اور اس میں دو آراء پائی جاتی ہیں:
پہلا قول: شافعیہ اور حنابلہ کا موقف
شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک اگر مالکِ سرمایہ (ربُّ المال) تمام نفع مضارب (کاروبار کرنے والے) کے لیے ہونے کی شرط لگا دے، تو مضاربہ کا عقد فاسد ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ عقدِ مضاربہ کے بنیادی تقاضے کے خلاف ہے، جس کی بنیاد نفع میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک متعین نسبت پر ہوتی ہے۔ اس بنا پر اس معاہدے کو "اجارہ" میں تبدیل کر کے درست قرار دیا جاتا ہے، یعنی عامل کو اس کے کام کے بدلے شراکت کے بجائے اجرتِ مِثلی )رواج کے مطابق اجرت( دی جائے گی، کیونکہ اجیر (مزدور) صرف اجرت کا مستحق ہوتا ہے، جبکہ مضارب نفع میں شریک ہوتا ہے۔
امام نووی شافعیؒ نے "منہاج الطالبین" (ص: 154، ط. دار الفکر) میں قِراض (یعنی مضاربہ) کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا: یہ شرط ہے کہ نفع دونوں (مالکِ سرمایہ اور مضارب) کے ساتھ خاص ہو اور دونوں اس میں شریک ہوں، پس اگر کہا جائے: میں نے تم سے اس شرط پر قِراض یعنی مضاربت کی کہ سارا نفع تمہارا ہوگا، تو یہ فاسد قِراض ہوگا۔"
شیخ الاسلام ابن حجر ہیتمی شافعیؒ نے "تحفۃ المحتاج" (6/ 88، ط. المکتبۃ التجاریۃ الکبری) میں فرمایا:
"پس اگر کہا: میں نے تم سے اس شرط پر قِراض کیا کہ سارا نفع تمہارا ہوگا، تو یہ فاسد قِراض ہے، کیونکہ یہ عقد کے مقتضی کے خلاف ہے، اور (اس صورت میں) مضارب کو اجرتِ مثل ملے گی، کیونکہ اس نے نفع کی طمع میں کام کیا تھا۔"
امام علاء الدین المرداوی حنبلیؒ نے "الإنصاف" (5/ 428، ط. دار إحیاء التراث العربی) میں فرمایا:
"اگر (مالک نے مضارب سے) کہا: اس مال کو مضاربت کے طور پر لے لو اور تمام نفع تمہارا ہوگا، یا میرا ہوگا، تو یہ صحیح نہیں ہے یعنی: اگر کسی نے ان میں سے کوئی ایک شرط "مضاربت" کے لفظ کے ساتھ لگائی، تو یہ عقد صحیح نہ ہوگا، اور یہی مذہب حنابلہ کا ہے، یہی حکم "الہدایہ"، "المذہب"، "مسبوک الذہب"، "المستوعب"، "الخلاصۃ"، "المغنی"، "الشرح"، "شرح ابن منجی" اور دیگر کتب میں جزم کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
قاضی، ابن عقیل، ابو الخطاب اور دیگر فقہاء نے فرمایا: یہ فاسد مضاربت ہے، اور اس میں مضارب اجرتِ مثلی کا مستحق ہوگا، جیسا کہ "المغنی" میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
امام ابو السعادات بہوتی حنبلیؒ نے "کشاف القناع" (3/ 596، ط. دار الکتب العلمیہ) میں فرمایا:
"اگر (مالک نے مضارب سے) کہا: یہ مال مضاربت کے طور پر لے لو اور تمام نفع تمہارا ہوگا، تو مضاربت فاسد ہو جائے گی۔ یا اگر کہا: اسے مضاربت کے طور پر لے لو اور تمام نفع میرا ہوگا، تب بھی مضاربت فاسد ہو جائے گی؛ کیونکہ مضاربت کا تقاضا یہ ہے کہ نفع دونوں کے درمیان تقسیم ہو، اور جب کسی ایک کے لیے مکمل نفع مخصوص کر دیا جائے تو اس میں ایسی شرط لگا دی گئی جو عقد کے تقاضے کے خلاف ہے، لہٰذا یہ مضاربت فاسد ہو گئی۔اور پہلی صورت میں، یعنی جب کہا (یہ مال مضاربت کے طور پر لے لو اور تمام نفع تمہارا ہوگا) مضارب اجرتِ مثل کا مستحق ہوگا؛ کیونکہ اس نے ایسے عوض پر کام کیا جو اسے حاصل نہیں ہوا۔
دوسرا قول: جمہور فقہاء کا موقف، جو فتویٰ کے لیے مختار ہے
یہ موقف جمہور فقہاء کا ہے، جن میں احناف، مالکیہ (مشہور قول کے مطابق)، اور شوافع (مقابلِ اصح قول) شامل ہیں۔ یہی موقف فتویٰ کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔
ان کے نزدیک، اگر مالکِ مال (رب المال) نے یہ شرط لگا دی کہ تمام نفع مضارب (عامل) کا ہوگا، تو اس طرح کا معاہدہ مضاربت نہیں بلکہ قرض شمار ہوگا؛ کیونکہ مکمل نفع کا مالک وہی ہو سکتا ہے جو اصل سرمائے (رأس المال) کا مکمل مالک ہو۔ جب مالکِ مال نے تمام نفع مضارب کے لیے مشروط کر دیا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے رأس المال کو بھی اس کے حوالے کر دیا اور اسے مکمل نفع کا مالک بنا دیا۔ مزید یہ کہ، جب اس نے مضارب کو کاروبار کے لیے رقم دی، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ اسے واپس بھی لے گا۔ اور یہی قرض کی حقیقت ہے۔
امام علاء الدین الکاسانیؒ نے "بدائع الصنائع" (جلد 6، صفحہ 86، دار الکتب العلمیہ) میں فرمایا: "اگر تمام نفع مضارب کے لیے مشروط کر دیا جائے تو یہ ہمارے آئمہ (احناف) کے نزدیک قرض ہوگا"۔
اسی طرح امام مجد الدین ابو الفضل ابن مودود الموصلیؒ نے "الاختیار لتعلیل المختار" (جلد 3، صفحہ 20، مطبعہ الحلبی) میں فرمایا: "اگر نفع مضارب کے لیے مشروط کیا جائے تو یہ قرض ہوگا، کیونکہ مکمل نفع کا مالک وہی ہو سکتا ہے جو اصل سرمایہ (رأس المال) کا بھی مالک ہو۔ جب مالکِ مال نے تمام نفع مضارب کے لیے مقرر کر دیا، تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے رأس المال بھی اس کے حوالے کر دیا۔ پھر 'مضاربت' کا لفظ اسے واپس کرنے کی شرط کے طور پر آیا، اس لیے یہ قرض بن جائے گا"۔
امام ابو عبد اللہ المواّق المالکیؒ نے "التاج والإکلیل" (جلد 7، صفحہ 452، دار الکتب العلمیہ) میں امام باجیؒ سے نقل کیا: "امام مالک کے مشہور مذہب میں ایک فریق کے لیے تمام نفع کی شرط لگانا جائز ہے"۔
امام ابو البرکات دردیر مالکیؒ نے "الشرح الصغیر" (جلد 3، صفحہ 692، دار المعارف، مع "حاشیہ الامام الصاوی") میں فرمایا: اور تمام نفع کو کسی ایک کے لیے مقرر کرنا جائز ہے، یا ان دونوں کے علاوہ کسی شخص کے لیے مقرر کرنا بھی جائز ہے۔ اور مضارب، رب المال کے مالِ قراض کا ضامن ہوگا؛ یعنی جب نفع کی شرط صرف مضارب کے لیے رکھی گئی ہو تو اگر مال ضائع ہو جائے یا تلف ہو جائے، چاہے اس میں اس کی طرف سے کوئی کوتاہی بھی نہ ہو تو ضامن ہو گا۔ یعنی جب رب المال مضارب سے کہے: "اس مال میں کام کرو، اور نفع تمہارا ہوگا،" تو اس صورت میں یہ معاملہ قرض بن جائے گا اور امانت سے ذمے کی طرف منتقل ہوجائے گا۔
امام الحرمین ابو المعالی جوینی شافعیؒ نے "نهایة المطلب" (جلد 7، صفحات 455-456، دار المنہاج) میں فرمایا: اگر رب المال نے کہا: میں نے تم سے اس شرط پر مضاربت کی کہ تمام نفع تمہارا ہوگا، تو یہ مضاربت صحیح نہیں ہوگی؛ کیونکہ یہ معاملہ دراصل اس لیے جائز کیا گیا ہے تاکہ مال کے مالک حضرات تجارت میں مہارت رکھنے والے افراد کے عمل سے فائدہ اٹھا سکیں۔ لیکن جب سارا نفع ہی عامل کو دے دیا جائے تو اس میں مالک کا مفاد بالکل ختم ہوجاتا ہے، اور مالکِ مال کی جانب سے دیا گیا یہ مال ایک ایسا عطیہ یا ہبہ بن جاتا ہے جو مستقبل میں حاصل ہونے والے نفع سے متعلق ہے ۔ پس جب یہ بات ثابت ہوگئی، تو ہمارے بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ یہ دراصل قرض ہوگا، اور اس صورت میں عامل قرض کے طور رأس المال کا مالک پر بن جائے گا۔
امام نور الدین بن علی الشبراملسی الشافعیؒ نے "حاشیہ على نهاية المحتاج" (جلد 5، صفحہ 226، دار الفكر) میں فرمایا: یہ قرض صحیح ہوگا، اور اس میں سارا نفع عامل کا ہوگا"۔
خلاصہ
لہٰذا، سوال میں مذکور معاملے کے مطابق، کسی شخص کا دوسرے کو کاروبار کے لیے مضاربت کی بنیاد پر مال دینا شرعاً جائز ہے۔ اور مالکِ مال کا مضارب کے لیے سارے نفع کی شرط لگانابھی جمہور فقہاء کے نزدیک جائز ہے، لیکن اس شرط کی وجہ سے یہ معاملہ مضاربت سے نکل کر قرض کی صورت اختیار کر لے گا۔ چنانچہ یہ مال -جو مضارب نے اس شرط پر لیا کہ تمام نفع اسی کا ہوگا اور مالکِ مال اس میں سے کچھ نہیں لے گا - قرض شمار ہوگا، اور وہ اصل رقم مالک کو بغیر کسی اضافے کے واپس کرے گا۔ اور یہ سب کچھ قانونی ضوابط اور مالی معاملات کے متعلقہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.