26 ربيع الآخر 1438 عربى | En | Fr | De | Id | Ru | Tr
مفصل تلاش
عقائد خاندان اور معاشرہ مالی معاملات آداب و اخلاق جرائم اور فیصلے مسائل رسم و رواج نت نئے مسائل و احکام عبادات
Skip Navigation Links

پالتو جانوروں کی افزائش کے کاروبار پر زکات

    نوجوان حضرات چند پروجیکٹس پر کام کرتےہیں، جیسےپولٹری فارم میں مرغیوں کی افزائش کرکے اس سے حاصل شدہ انڈوں اور چوزوں کو فروخت کرتےہیں، تو کیا اس قسم کے کاروبارپر زکات ہے ؟ اور اگر ہے تو اس کا حساب کیسے لگایا جائے؟   

    زکوٰۃ ایک ایسا اسلامی شعار ہے جس میں ایک طرف تو ہمدردی کے معنی پائے جاتےہیں اور دوسری طرف یہی زکوٰۃ مال کی پاکی کا ذریعہ بھی ہے، لیکن ان دونوں باتوں سے پہلے یہ ایک اسلامی عبادت ہے جس کی بے چوں و چرا پیروی کرنا لازمی ہے. واضح رہے کہ زکوٰۃ مخصوص مالوںمیں، مخصوص شرائط کے ساتھ ، ایک مخصوص مقدار میں واجب ہوتی ہے، اور مخصوص مصارف میں خرچ کی جاتی ہے. ان سب باتوں کو شریعت مطہرہ نے واضح طور پر بیان کیا ہے، انہی مالوں میں تجارتی سامان بھی شامل ہے جن پر زکوٰۃ واجب ہے، اگر سامان تجارتی ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اور اگر صنعتی ہو یا پیداواری ہو یا استعمال کی ہو تو اس پر زکوٰ ۃ نہیںہے.
    
    سامان یا تو تجارتی ہو گا یا استعمال و مدد کےلئےہو گا، ان دونوں کے درمیان فرق یہہے کہ تجارت میں کوئی چیز اس غرض سے خریدی جاتی ہے کہ اس کو نفع حاصل کرنے کےلئے بیچا جائے، بغیر اس کے کہ اس میں صناعت یا پیداوار یا استعمال کا عنصر شامل ہو، جب یہ تینوں شرطیں پائی جائیں، یعنی فائدہ کمانے کے لئے بیچنے کی غرض سے اگر کوئی چیز خریدی جائے، تو وہ چیز تجارتی سامان کہلاتی ہے، اور جو چیز تجارت کے لئےہو اس پر سامان تجارت کی زکوٰۃہے جس کے حساب لگانے کا طریقہ یہہے کہ قمری سال کے مکمل ہونے پر پونجی اور فوائد کا حساب لگایا جائے اس میں سے برقرار رہنے والی جائداد اور قرضے گھٹائے جائیں اور باقی مال میں سے چالیسواں حصہ نکالا جائے.

    ''مستغلات'' – یا سامان استعمال و امداد - ایسے اموال کو کہتےہیں جو بذات خود تجارت کےلئے نہ رکھے گئےہوں بلکہ  منفعت کی غرض سے رکھے گئےہوں، اور ان سے مالک کو کمائی حاصل ہوتی ہو جیسے فلیٹ، گاڑیاں، یا ان سے حاصل شدہ پیداوار کو بیچنے کےلئے رکھا گيا ہو، جیسے کارخانے، یا تعمیراتی کمپنیاں جو زمینیں خرید کر اس کو آباد کرتی ہیں اور رہائش کے مکانات کی صورت میں بیچ دیتی ہیں، یا ایسے چوپائے جن کو اس غرض سے پالا جاتا ہے کہ ان کا دودھ بیچا جائے یا ان کی اون بیچی جائے، یا فربہ کرکے ان کی پیداوار کو بیچنا مقصود ہو، یا وہ مرغیاں جو انڈے دینے کی غرض سے پالی جاتی ہیں یا کھانے کےلئے فربہ کی جاتی ہیں، ان امور میں فتویٰ اسی بات پر ہے کہ ان میں زکوٰۃ نہیںہے، اگر چہ دور حاضر کے بعض فقہاء ايسے اموال کا دائرہ وسیع کرنے کے حق میںہیں جن پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، ان کی رائے یہہے کہ ان اموال میں بھی زکوٰۃ واجب ہے، لیکن ہم اس بارے میں نص کے حدود میںہی رہنے کو ترجیح دیتےہیں ،کیونکہ زکوٰۃ میں بے چوں وچرا پیروی کا معنی غالب ہے، اس کے علاوہ جن چیزوں میں زکوٰۃ کے وجوب پر نص وارد نہیںہے ان میں بری الذمہہونا ہی اصل ہے، اور کارخانوں یا پیداوار پر زکوٰۃ نہہونے میں ایک اہم شرعی حکمت بھی ہے وہ یہ کہ اس سے صنعت کاری کی ترغیب ملتی ہے اور لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے. اور جو مجتہد ان امور میں زکوٰۃ کے وجوب کے قائل نہیںہیں ان کی نظروں سے فقیروں اور غریبوں کی محتاجی بھی پوشیدہ نہیںہے، کیونکہ کاروبار کی وسعت سے زیادہ سے زیادہ کام کے مواقع پیدا ہونگے اور مال کی زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ہوگی جس کے نتیجے میں سارا سماج بشمول تمام طبقات خوشحال ہو گا، جن میں فقیر اور غریب وغیرہ بھی شامل ہونگے، اس طرح سے اس میں بلا واسطہ ان کی بھی رعایت پائی جاتی ہے.

    اس بنا پر سوال میں جو مرغیوں کو پالنے اور تیار کرنے اور ان کے انڈے اور چوزے بیچنے کی فارم  پر زکوٰۃ نہیںہے، بلکہ اس کاروبار سے جمع شدہ اور اس کے علاوہ دیگر ذرائع سے جمع شدہ مال جب نصاب کو پہونچے اور اس پر ایک قمری سال گذر جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے.

    باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.

صفحہء اول دار الافتاء کے بارے میں استفتاء ویب سائٹ کا نقشہ آپ کی رائے اور تجویزیں ہم سے رابطہ کریں