28 رجب 1438 عربى | En | Fr | De | Id | Ru | Tr
مفصل تلاش
عقائد خاندان اور معاشرہ مالی معاملات آداب و اخلاق جرائم اور فیصلے مسائل رسم و رواج نت نئے مسائل و احکام عبادات
Skip Navigation Links

استلام المحرم الحجر او مسه الكعبة اذا رأى عليهما اثر الطيب

کیا محرم کیلئے حجر اسود اور کعبۃ اللہ کو چھونا جائز ہے حالانکہ اسے کعبہ پرعطر کے اثرات بھی محسوس ہو رہے ہیں؟

 الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی رسول اللہ و آلہ وصحبہ و من والاہ۔۔۔ وبعد:

طواف کے ہر چکر میں حجر اسود کو چھونا سنت ہے شیخین نے عبد اللہ بن عمر - رضی اللہ عنھما - سے روایت کیا ہے " رسول اللہ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھوا کرتے تھے"

امام مسلم نے حضرت نافع سے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر - رضی اللہ عنھما - سے روایت کیا ہے آپ فرماتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ کو حجر اسود اور رکن یمانی چھوتے ہوئے دیکھا تو اس وقت سے میں نے تنگی اور آسانی (کسی حالت) میں بھی انہیں چھونے کی سنت کو نہیں چھوڑا "

اگر ہاتھ سے چھونا مشکل ہو تو ہاتھ میں موجود کسی بھی چیز کے ساتھ چھو سکتا ہے اور اگر کسی بھی طرح چھونا ممکن نہ ہو تو اس کی طرف اشارہ کرکے تکبیر پڑھ لے۔ کیونکہ سیدنا ابن عباس - رضی اللہ عنھما - سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں: (ایک بار) حضور نبی رحمت نے اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا اور جب رکن (یمانی ) کی طرف  آتے تو اس کی طرف اشارہ کرکے تکبیر کہتے" ([1])

امام ابو الحسن فرماتے ہیں: طواف کے شروع میں حجر اسود کو چھونا سنت ہے اور ہر چکر کے شروع میں اسے چھونا مستحب ہے مگر پہلی بار چھونا سنت ہے یعنی جب بھی اس کے پاس سے گزرے اسے چھو لیا کرے اگر ہو سکے تو اپنے منہ کے ساتھ چھو لے ورنہ اپنا ہاتھ اس پر پھیر کر ہاتھ کا بوسہ لیے بغیراپنے منہ پر پھیر لے ۔ ([2])

شیخ الاسلام امام زکریا انصاری شافعی فرماتے ہیں: ہاتھ کے ساتھ حجر اسود کو چھونا اور پھر اسے بوسہ دینا سنت ہے اسے شیخین نے روایت کیا ہے اوراگر بہت زیادہ بھیڑ ہو جس کی وجہ سے بوسہ نہ دیا جا سکے تو ہاتھ کے ساتھ چھو لے اور اگر ہاتھ سے چھونا بھی ممکن نہ ہو تو لکڑی وغیرہ سے چھو کر اسے بوسہ دے۔ کیونکہ حضور نبی رحمت نے فرمایا: جب میں تمھیں کوئی حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے بجا لایا کرو"

اوراس ضمن میں امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمر - رضی اللہ عنھما - نے حجر اسود کو چھوکراپنا ہاتھ کا بوسہ لیا اور کہا جب سے میں نے رسول اللہ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت سے میں نے اس سنت کو کبھی ترک نہیں کیا۔

اور اگر اسے چھونا دشوار ہو تو ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرے یا جو چیز ہاتھ میں ہو اس سے اشارہ کرکے اسے چوم لے۔ کیونکہ امام بخاری نےاس ضمن میں ایک  روایت ذکر کی ہے کہ : حضور نبی رحمت نے اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا اور جب رکن ( یمانی ) کی طرف  آتے تو اپنے پاس موجود کسی بھی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرکے تکبیر کہتے تھے" ([3])

یہاں یہ یاد رہے کہ  کعبۃ اللہ کو چھونا کبھی حصول برکت کیلئے ہوتا ہے، اور کبھی کعبۃ اللہ کے غلاف کو بہت عاجزی سے دعا کرنے کیلئے پکڑا جاتا ہے تو کبھی سنت پر عمل کرتے ہوے مقام ملتزم پر کھڑے ہوتے وقت اسے چھوا جاتا ہے تو یہ سب امور سنت ہیں۔ حضرت عمرو بن شعیب - رضی اللہ تعالی عنھما - نے اپنے والد گرامی سے روایت کیا ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے( ایک دفعہ) رسول اللہ کے ساتھ طواف کیا جب ہم کعبۃ اللہ کے عقب میں پہنچے تو میں نے عرض کی: کیا آپ اعوذ باللہ نہیں پڑھیں گے؟ تو آپ نے فرمایا(اعوذ باللہ من النار ) پھر چلتے رہے یہاں تک کہ آپ نے حجر اسود کو مس کیا اور پھر باب کعبۃ اللہ اور رکن یمانی کے درمیان میں کھڑے ہو گئے اور اپنا سینہ مبارک، چہرہ، بازو اور ہتھیلیاں اس طرح کعبۃ اللہ پر رکھ دیں" انہوں نے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور کہا رسول اللہ کو میں نے اس طرح کرتے ہوے دیکھا ہے۔([4])

امام عبدالرزاق نے حضرت معمر- رضی اللہ عنہ -  سے روایت کیا آپ فرماتے ہیں میں نے حضرت ایوب- رضی اللہ عنہ - کو دیکھا کہ انہوں نے اپنا سینہ اور ہاتھ کعبۃ اللہ کے ساتھ ملائے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے ہی حضرت ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے والد گرمی سے روایت کیا کہ آپ اپنا سینہ، ہاتھ اور پیٹ کو کعبۃ اللہ کے ساتھ ملایا کرتے تھے۔

قبل از اسلام عرب لوگوں میں سے جب کوئی امان چاہتا تھا تو غلاف کعبہ کے ساتھ چمٹ جاتا تھا۔ حضرت مصعب بن سعد اپنے والد گرامی سے روایت کرتےہیں: جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو حضور نبی رحمت نے چار مرد اور دو عوروں کے علاوہ سب کو امان دے دی اور فرمایا انہیں قتل کر دو اگرچہ تم انہیں غلاف کعبہ کے ساتھ چمٹے ہوے پاؤ(وہ یہ ہیں): عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ اور عبد اللہ بن سعد بن ابو سرح ([5])

تو اس سے پتا چلا کہ کعبۃ اللہ کے غلاف کے ساتھ چمٹنا جاہلیت اور اسلام میں عام رواج تھا۔

"محرم " کیلئے خوشبو حاصل کرنےکی غرض سےعطر کو چھونا حرام ہے اس کیلئے کسی بھی طریقے سے خوشبو کا استعمال حرام ہے۔ چاہے جسم پر لگی ہو یا تہبند، چادر، یا کسی اور کپڑے پر یا اس کے بستر پر لگی ہو اور اگر اس کے جوتے پر بھی لگی ہے تو بھی اسے اتارنے کیلئے جلدی کرنا اس پر واجب ہے۔ اور وہ کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس پر ہلدی، زعفران یا اس جیسی کوئی اور خوشبو دار چیز لگی ہو۔ اور نہ ہی اس کیلئے ایسا عطر اٹھانا جائز ہے جس کی خوشبو پھیلتی ہو۔ شیخین نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے: ایک شخص کھڑا ہوا ، اور عرض کی یا رسول اللہ احرام کی حالت میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟

تو آپ نے فرمایا:شلوار قمیص نہ پہنو، نہ عمامہ اور نہ ٹوپی پہنو مگر جس کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزے پہن لے لیکن انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز پہنو جس پر زعفران یا ہلدی لگی ہو"

صاحب المغنی فرماتے ہیں: اور تیل بھی نہیں لگا سکتا چاہے معطر ہو یا معطر نہ ہو۔ ([6])

امام رحیبانی حنبلی رحمہ اللہ فرماتےہیں:" محرم " کیلئے جان بوجھ کر عطر کو چھونا، سونگھنا اور استعمال کرنا بالاجماع حرام ہے کیونکہ حدیث پاک میں آیا ہے:" اور نہ ہی کوئی ایسی چیز پہنے جس پر زعفران یا ہلدی لگی ہو" اور حضرت یعلی بن امیہ نے کہا ہے کہ خوشبو والے کپڑے کو دھو لے۔ حج کے دواران جس آدمی کو اس کی اونٹنی نے دبا کر مار دیا تھا اس کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا تھا "ولا تحنطوہ" (اس (کی نعش) کو خوشبو نہ لگانا) اور امام مسلم کے الفاظ ہیں "ولا مسًوہ بطیب" اور جب محرم نے کپڑے یا جسم پرعطر لگا لیا تو اس تو نے حرام کا ارتکاب کیا اور اس پر فدیہ لازم ہو گا۔([7])

کعبۃ اللہ کے ساتھ جو عطر لگا ہوتا ہے اس کا حکم الگ ہے اگر "محرم" کعبۃ اللہ کو حصول برکت کیلئے چھوتا ہے تو جائز ہے اگرچہ اس کی خوشبو محسوس کر لی ہو اور خوشبو اس کے کپڑوں میں منتقل بھی ہو گئی ہو کیونکہ قریب جانے سے خوشبو لگ ہی جاتی ہے۔

اگر اس نے یہ گمان کرتے ہوئے کعبۃ اللہ پر ہاتھ  رکھا کہ اس پر عطر نہیں لگا ہوا تھا ، یا خشک ہو چکا ہے لیکن جب ہاتھ رکھا تو تر تھا اور عطر اس کے ہاتھ کو لگ گیا تو اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہو گا لیکن ہاتھ دھونا واجب ہوگا ۔ اگر اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو فدیہ واجب ہو گا یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی رائے ہے جیسا کہ امام ماوردی نے فرمایا ہے۔([8])

اور اگر بھیڑ کی وجہ سے دھونا دشوارہو تو امام مالک کے مذہب کے مطابق اس کیلئے رخصت ہو گی بشرطیکہ عطر زیادہ نہ ہو کیونکہ یہاں رخصت کی ضرورت ہےاور اس لئے بھی کہ ہمیں کعبۃ اللہ کی قریب رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور کعبۃ اللہ غالبا کبھی بھی عطر سے خالی نہیں ہوتا ہے جیسا کہ "شرح الصغیر" اور " حاشیہ الصاوی " میں آیا ہے۔([9])

اسی طرح صفائی اور جراثیم کو ختم کرنے کیلئے جو چیزیں کعبہ شریف پر ڈالی جاتی ہیں ان کو چھونا بدرجہ اولی جائز ہو گا کیونکہ یہ چیزیں خوشبو کیلئے استعمال نہیں ہوتیں۔

والله تعالى اعلم بالصواب۔



[1] بخاری

[2]  شرح الرسالۃ  1/532 ط دار الفکر

[3]  اسنی المطالب شرح روض الطالب 1/480 ط دار الکتاب الاسلامی

[4] ابو داود

[5] نسائی و ابو داود

[6] المغنی 3/300 ط کتاب العربی

[7] مطلب اولی النھی فی شرح غایۃ المنتھی2/332 ط بیروت

[8] الحاوی 4/113 ط دار الکتب العلمیۃ

[9] شرح الصغیر و معہ حاشیۃ الصاوی 2/87 ط دار المعارف

صفحہء اول دار الافتاء کے بارے میں استفتاء ویب سائٹ کا نقشہ آپ کی رائے اور تجویزیں ہم سے رابطہ کریں