1 ذو الحجہ 1438 عربى | En | Fr | De | Id | Ru | Tr
مفصل تلاش
عقائد خاندان اور معاشرہ مالی معاملات آداب و اخلاق جرائم اور فیصلے مسائل رسم و رواج نت نئے مسائل و احکام عبادات
Skip Navigation Links

وقت افطار الصائم في الطائرة 3

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ہم مصری ائرلائن سے مصر سے کنیڈا آئے کسی عالم دین نے ہمیں روزہ رکھنے کا فتوی دیا تھا حالانکہ پرواز کا سفر 11 گھنٹے کا تھا ۔ ہم دن ایک بجے سوار ہوئے اورمصری وقت کے مطابق ہم نے روزہ افطار کر لیا اور سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا جو کہ سفر ختم ہونے کے بعد غروب ہوا ، یعنی 11 گھنٹے کے بعد سورج غروب ہوا تو اس مسئلہ میں فتوی کیا ہے؟

 

 بسم الله والحمد لله والصلاة و السلام على سيدنا رسول الله وآله وصحبه ومن والاه, وبعد۔

اللہ تبارک و تعالی نےمسلمانوں پر روزہ فرض کیا ہے جس کا آغاز طلوع فجراور اختتام غروب شمس ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد گرامی ہے: " اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے تم پر سفید ڈورا سیاہ ڈورے سے صبح کے وقت پھر پورا کرو روزہ رات تک "([1])

صحیحین میں سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: "جب رات آ جائے اور دن غروب ہو جائے تو روزہ دار روزہ افطار کر لے"([2])

 

لیکن اس سے وہ احوال مستثنی ہیں جن میں روزہ توڑنے کی رخصت ہوتی ہے ۔ امام ابن عابدین حنفی رحمہ اللہ نے ان حالات کو ایک نظم کی شکل میں لکھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:

"نو " قسم کے حالات میں انسان کو روزہ توڑنا جائز ہے جو یہ ہیں حمل کا ہونا، بچوں کو دودھ پلانا، مجبوری، سفر، مرض، جھاد، بھوک، پیاس اور بڑھاپا([3])۔ ان حالات میں روزہ افطار کرنا جائز ہے ۔

مسافر کیلئے مباح سفر کے دوران روزہ چھوڑنا جائز ہے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

 " جو مریض ہو یا مسافر  تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے " ([4])

 مسافر کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی تا کہ جن دنوں کے روزے نہیں رکھ سکا وہ رمضان کے بعد دوسرے دنوں میں ان کی قضا کر لے ۔

صحیحین میں مذکور ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں: حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی نے سرکار دوعالم سے دریافت کیا: کیا سفر میں بھی روزہ ہے؟ اس لیے کہ آپ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے

" تو آپ نے ارشاد فرمایا: چاہے رکھو چاہے چھوڑ دو "

تو آپ نے اسے رمضان اور غیر رمضان میں روزہ رکھنے اور چھوڑنے میں اختیار دے دیا ۔

 

اور جب روزہ اتنا لمبا ہو کہ اس کی مشقت سے جان کو خطرہ ہو توڑ لینا ہی جائز ہے ۔

امام کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسی بھوک اور پیاس جس میں جان کو خطرہ ہو تو روزہ افطار کرنا جائز ہے جیسا کہ ایسے مرض میں جائز ہے جس میں جان کا خطرہ ہو۔([5])

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جسے بھوک یا پیاس اتنی شدت سے لگ جائے کہ جان کا خطرہ ہو اس پر روزہ توڑنا لازم ہے اگرچہ صحیح سلامت اور مقیم ہو کیونکہ فرمان باری تعالی ہے:

 "تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بے شک اللہ تعالی بے حد رحم فرمانے والا ہے" ([6])

اور فرمان حق ہے کہ:

 " اور نہ پھینکو اپنے آپکو اپنےہاتھوں تباہی میں"([7])

اس پر مریض کی طرح قضا لازم ہو گی۔([8])

 اور جہاز میں سفر کرنے والے کیلئے بھی وہی احکام ہیں جو سفر کی وجہ سے عام مسافر پر لاگو ہوتے ہیں ۔

اگر روزے کا وقت طویل ہونے کیوجہ سے مشقت میں پڑ جائے تو افطار کر لینا اس کے لئے جائز ہےاگر اس نے روزہ رکھ لیا تو اسے غروب آفتاب ہونے پر ہی افطار کرنے سے روزہ ادا ہو گا ۔ یا تو غروب آفتاب خود دیکھے یا کسی قابل اعتماد آدمی نے اسے بتایا ہو۔ وہ اپنے ملک کے وقت پر روزہ افطار نہیں کر سکتا اور نہ ہی جس ملک کے اوپر سے گزر رہا ہے اس کے وقت کے مطابق کر سکتا ہے کیونکہ نصوص اور قواعد شریعہ اسی بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

 " اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے تم پر سفید ڈورا سیاہ ڈورے سے صبح کے وقت پھر پورا کرو روزہ رات تک "([9])

  جیسے یہ بات مسلمہ ہے کہ رات سورج غروب ہونے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے اسی طرح یہ بات بھی یقینی ہے کہ ہر کسی کے روزہ کے سحر و افطار اور عبادات میں طلوع و غروب کے وقت کا اعتبار اسی زمین کے اسی خطے اور آب و ہوا کا ہو گا جہاں وہ آدمی رہتا ہو ۔  امام ابن عابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی بلند جگہ پر ہو جیسے " سکندریہ " کے مینار پر  تو وہ اسی وقت افطار کرے گا جب اس کے پاس سورج غروب ہو گا اور شہر والوں کے پاس اگر غروب ہو گیا ہو تو وہ افطار کر لیں گے اسی طرح فجر کی نماز اور سحری کے وقت کا یہی حکم ہے ۔([10])

 

اس کرہ ارض میں اور سورج کے گرد اسکے چکر لگانے کے بارے میں جب غور وفکر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سورج پوری روئے زمین پر ایک ساتھ غروب نہیں ہوتا بلکہ جو شخص زمین کے زیادہ قریب ہے اور اس کے پاس سورج دور والے شخص سے پہلے غروب ہو جائے گا تو وہ دور والے سے پہلے افطار کرے گا ۔

 

امام زیلعی رحمہ اللہ " تبیین الحقائق " میں فرماتے ہیں: جس نے رمضان یا عید کا چاند دیکھا ہو اور اس کی بات کو نہ مانا جائے تو وہ روزہ رکھے۔

اس پر تعلیق  لگاتے ہوئے امام شبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جب آسمان ابر آلود ہو  اور گواہ کو فاسق سمجھ کر اس کی بات کو جٹھلا دیا جائے یا اس کے اکیلے ہونے کی وجہ سے اس کی شہادت قبول نہ کی جائے اگرچہ وہ عادل ہو اور آسمان بھی ابر آلود نہ ہو۔

" مبسوط " میں ہے: جب مطلع صاف ہو اور وہ آدمی شہر کا رہنے والا ہو تو امام وقت اس کی شہادت رد کر دے اور اگر مطلع ابر آلود ہو اور وہ آدمی بھی شہر سے باہر کسی بالائی جگہ سے آیا ہو تو  اس کی بات مان لی جائے گی ۔([11])

بلند مقام سے چاند دیکھنا شہادت کے قبول ہونے کا سبب ہے کیونکہ بلند جگہ سے رؤیت زیریں جگہ کی رؤیت سے مختلف ہوتی ہے۔

امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہلال کے ثبوت کیلئے گواہ کا اونچی جگہ پہ ہونا یا شہر سے باہر ہونا کافی ہے کیونکہ اونچی اور نیچی جگہ کے طلوع و غروب میں فرق ہوتا ہے۔([12])

 

 اگر جہاز کے مسافر کے پاس سورج غروب ہو جائے اور اس نے افطار کر لیا لیکن کچھ وقت بعد دوبارہ ظاہر ہو جائے اس کا روزہ صحیح ہو گا اس پر کوئی قضا نہیں ہے کیونکہ اس نے دلیل شرعی پر عمل کیا ہے اسلئے کہ اعتبار سورج کے غروب ہونے کا ہوتا ہے جو کہ اس کی نظر میں یا کسی ثقہ کے بتانے کے مطابق غروب ہو گیا اب اس پر دوبارہ " امساک " لازم نہیں ہو گا سورج کے لوٹنے اور روزہ لوٹانے کی طرف نہیں جائے گا کیونکہ وہ ایسی حالت میں ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔

 اگر اس گمان سے افطار کیا کہ سورج غروب ہو گیا لیکن حقیقت میں نہیں ہوا تو اس پر قضا واجب ہو گی

صحیح بخاری میں حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنھما سے حدیث پاک مروی ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک دن موسم ابر آلود تھا ، ہم نے روزہ افطار کر لیا پھر سورج نکل آیا حضرت ہشام سے پوچھا گیا: تو کیا ان پر قضا واجب ہوئی تھی؟

 تو فرمایا: قضا تو ضرور واجب ہوئی۔

موسم کے ابر آلود ہونے کی صورت میں جب سورج دیکھنا مشکل ہو جائے تو احتیاط یہی ہے کہ جب تک غروب ہونے کا یقین نہ ہو جائے روزہ افطار نہ کیا جائے ہاں اگر وقت اتنا لمبا ہو جائے کہ برداشت مشکل ہو جائے تو افطار کر سکتا ہے جیسا کہ مذکورہ بحث میں ذکر کیا گیا ہے۔

سابقہ دلائل کی روشنی میں مسافر روزہ افطار کر سکتا ہے کیونکہ جہاز کے مسافر میں بھی سفر کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں۔ اگر روزہ رکھ کر " عزیمت " پر عمل کرنا چاہتا ہے تو غروب آفتاب ہونے پر ہی روزہ افطار کرے گا اگرچہ فضا میں غروب آفتاب ایک لمحے کیلئے ہی کیوں نہ ہو ۔  اگر سورج دوبارہ نکل آیا تو اس کی طرف توجہ نہ دے یا پھر کسی ثقہ آدمی کی خبر پہ افطاکرے گا ۔ اگر اس پر روزہ کا وقت طویل ہو جائے تو افطار کر سکتا ہے۔

والله تعالى اعلم بالصواب۔

 



[1] البقرة 187

[2] بخاری 1853

[3] رد المحتار 2/421 ط . دار الكتب العلمية

[4] البقرة ، الآیۃ 185

[5]  البدائع 2/97 ط . دار الكتب العلمية

[6] النساء 29

[7] البقرہ 195

[8] المجموع 6/262 ط۔ مکتبۃ الارشساد جدہ

[9] البقرة 187

[10] رد المحتار 2/420

[11] 1/317 ط . دار الكتاب الاسلامی

[12] مجمع الانہر 1/237 ط احياء التراث العربی

صفحہء اول دار الافتاء کے بارے میں استفتاء ویب سائٹ کا نقشہ آپ کی رائے اور تجویزیں ہم سے رابطہ کریں