27 ذو القعدة 1438 عربى | En | Fr | De | Id | Ru | Tr
مفصل تلاش
عقائد خاندان اور معاشرہ مالی معاملات آداب و اخلاق جرائم اور فیصلے مسائل رسم و رواج نت نئے مسائل و احکام عبادات
Skip Navigation Links

تعيين النية في الصيام عند اختلاف جنس الصيام(3)

جن دنوں میں مختلف قسم کے روزے رکھنے کی گنجائش ہو ان میں روزےکو نیت کے ساتھ متعین کرنے کا کیا حکم ہے؟

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ و آلہ وصحبه و من والاہ و بعد.

النیة" کے کثیر معانی ہیں مثلا: ایک جگہ سے دوسری جگہ پھر جانا, دور ہو جانا, قصد کرنا اور حفظ کرنا

 اصطلاح شریعت میں اس کا معنی ہے جو کام  انسان کرنا چاہے دل سے اس کا قصد کرنے کو نیت کہتے ہیں ۔

نیت اس لیے مشروع کی گئی ہے تاکہ عادات اور عبادات میں تمییز کی جا سکے اور عبادات کے مراتب کو پہچانا جا سکے.

امام بخاری رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین سيدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث  روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پرہے ہر آدمی کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کی پس جس نے اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر ہجرت کی اسکی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہی ہے جس نے دنیا کیلئے ہجرت کی کہ وہ اسے پا لے گا یا کسی عورت کیلئے کی کہ وہ اس سے نکاح کر لے گا تو اس کی ہجرت اسی چیز کیلئے ہو گی جس کی طرف اس نے ہجرت کی.

امام ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نیت کا مقصود یہ ہے کہ عادات اور عبادات میں فرق کیا جا سکے عبادات میں ایک دوسری میں تمییز ہو سکے جیسے کبھی انسان روزے کی وجہ سے کھانا پینا ترک کرتا ہے اور کبھی علاج یا طبیعت کے نا موافق ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے. اسی طرح مسجد میں انسان کبھی قرب الھی کی خاطر بیٹھتا ہے اور کبھی سستانے کی کیلئے، اور کبھی قرب الھی فرائض سے حاصل کرتا ہے اور کبھی واجبات اور کبھی نوافل سے تو نیت ان سب صورتوں کے درمیان تمییز پیدا کر دیتی ہے([1])

نیت روزے کیلئے شرط ہے پس جس نے صبح ہونے سے قبل رات کو نیت نہیں کی اس کا روزہ صحیح نہیں ہو گا کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " جس نے نیت نہیں کی اس کا کوئی عمل نہیں"([2])

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے نیت  نہیں کی اس کا روزہ نہیں ہو گا

امام دردیر رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: روزہ فرضی ہو یا نفلی رات سے نیت کرنا ضروری ہے

اور اس حدیث مبارکہ کے عموم کی وجہ سے جو سنن اربعہ میں مذکور ہے ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنھا  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ والم نے فرمایا:جس نے رات کو نیت نہیں کی ، صبح ہونے سے پہلے تو اس کا کوئی روزہ نہیں ہے.

پس نیت کی تعیین کرنا واجب ہے ، روزہ خواہ فرض ہو یا واجب ادا ہو یا قضا خواہ نذر کا ہو کیونکہ نیت اعمال کے مراتب میں تمییز کرنے کے لیے مشروع کی گئی ہے ۔ اس لیے کہ واجب، نفل سے مختلف ہوتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ روزہ بھی نماز کی طرح وقتی عبادت ہے جس کی تعیین ضروری ہے تاکہ فرض اور نفل میں فرق کیا جا سکے

 خطیب شیرینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نیت کی اس طرح ہو گی کہ وہ نیت کرے کہ میرا یہ روزہ رمضان کا ہے یا نذر کا ، یا پھر کفارہ کا ہے کیونکہ روزہ بھی پانچ نمازوں کی طرح وقتی عبادت ہے اس میں تعیین ضروری ہے([3])

اما نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:فرض روزے کی نیت ضروری ہے چاہے وہ روزہ رمضان المبارک کا ہو یا نذر کا یا کفارے یا اس کے علاوہ ہو([4])

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے پیں: رات کے کسی بھی حصے میں نیت کرنا ضروری ہے الغرض اس بات پر اجماع ہے کہ نیت کے بغیر روزہ صحیح نہیں ہوتا  خواہ فرض ہو یا نفل کیونکہ یہ بھی نماز کی طرح محض عبادت ہے جس میں نیت کی ضرورت ہوتی ہے پھر روزہ اگر فرض ہو جیسے رمضان المبارک کا یا نذر کا کفارے کا تو ہمارے آئمہ کرام کے نزدیک رات کو نیت کرنا شرط ہے یہی مذہب امام مالک اور امام شافعی رحھمھا  اللہ کا ہے([5])

اور اگر نفلی روزہ ہے تو اس میں بغیر تعیین کے مطلقا نیت جائز ہے کیونکہ تمام نوافل کی جنس ایک ہی ہوتی ہے اس میں مطلقا نیت کافی ہے جیسے نفلی نماز میں ہوتی ہے([6])

امام جلال الدین محلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نفلی روزے کیلئے صرف روزے کی مطلق نیت کافی ہے([7])

مذکورہ دلائل سے ثابت ہوا کہ روزے کیلئے نیت شرط ہے اگر فرض روزہ ہے اس کا تعین کیا جائے گا اور نفلی روزہ ہے تو مطلقا روزے کی نیت ہی کافی ہے.

واللہ تعالی اعلم بالصواب

 


الاشباه والنظائر ط . دار الكتب العلميۃ

[2] روضۃ الطالبین ط۔ المکتب الاسلامی

[3] الاقناع

[4] روضۃ الطالبین

[5] المغني لابن قدامة

[6] المجموع ط دار الفکر

[7]  شرح المنھاج للمحلی

صفحہء اول دار الافتاء کے بارے میں استفتاء ویب سائٹ کا نقشہ آپ کی رائے اور تجویزیں ہم سے رابطہ کریں